فروغ رضویات میں
مولانا عبد الرحیم ثمر مصباحی کا کردار
نام ونسب: نام: عبد الرحیم
، قلمی نام: ثمرؔ مصباحی ، تعلیمی نسبت : مصباحیؔ، والد ماجد کا نام: محمد امیر
الدین۔آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے :
عبد الرحیم بن امیر الدین بن محمد دل جان راعین بن محمد ظاہر راعین ۔
ولادت :
آپ کی ولادت
۵/جمادی الاول ١٤۰۹ھ مطابق ۱۵/ دسمبر ١٩٨۸ءبروز جمعرات موضع پرڑیا ضلع مہوتری،
نیپال کے ایک مزدورگھرانے میں ہوئی۔ آپ کے جد محترم محمد دل جان راعین موضع بھمرپورہ ضلع
مہوتری کے رہنے والے تھے۔ جب آپ کے والد
صاحب کی عمر ۸ سال رہی ہوگی آپ کے دادا اس دنیا سے چلے گیے اس لیے والد صاحب پہلے
بہن کے گھر پھر شادی کے بعد پرڑیا آگیے اور یہیں رہنے لگے۔
تعلیم و تربیت :
آپ کی تعلیم کا سلسلہ گاؤں کے مکتب سے شروع ہوا اورمدرسہ اسلامیہ بیت العلوم خالص پور ادری مئو اورطیبۃ العلما
جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی ہوتے ہوئے الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی
میں۲۰۰۹ ء میں تکمیل فضیلت پر جا کر ختم
ہوا ۔ الجامعۃ الاشرفیہ میں رہتے ہوئے قومی کونسل براے فروغ اردو زبان سے کمپیوٹر
اور اردو میں ڈپلوما کا کورس مکمل کیا۔ پھر ۲۰۱۱ء میں Shree Higher Secondary
School سیتا پور بھنگہا مہوتری نیپال سے SLC پاس کیا۔
درس و تدریس : فراغت کے بعد
۲۰۰۹ء ہی میں دار العلوم نوری برکاتی نزد
ریلوے اسٹیشن جنک پور نیپال میں بحیثیت صدر المدرسین آپ کی تقرری ہوئی جہاں مسلسل
دو سالوں تک آپ درس و تدریس اور دعوت و
تبلیغ میں مصروف رہے ۔ پھرگاوں والوں کے
اصرار پر ۲۰۱۱ء میں جامعہ صوت الرضا پرڑیا ضلع مہوتری کے اول
صدر المدرسین و ناظم تعلیمات کے عہدہ کو
سنبھالا اور تین سالوں تک جامعہ صوت الرضا میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ ۱۸ اکتوبر ۲۰۱۴ ء میں آپ مرکز
الثقافۃ السنیہ کے تحت جزائر انڈمان نیکوبار المعروف بہ کالا پانی کی راجدھانی پورٹ بلیئر بحیثیت نائب صدر
المدرسین تشریف لے گیے، تاحال انڈمان ہی
میں مدرسہ عین الھدی اور حنفی دار الافتا و القضا کے صدر کی حیثیت سے آپ مسلک و
ملت کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تصنیف و تالیف : درس و تدریس اور
تقریر و خطابت کے علاوہ آپ تحریر و قلم سے بھی دل چسپی رکھتے ہیں۔انڈمان آنے کے
بعد دو دو مدرسے اور دار الافتا و القضا کی ذمہ داریاں ، اورمختلف جزائر کے دعوتی
و تبلیغی اسفار کی وجہ سے بہت زیادہ مصروف رہتے ہیں۔ اس کے باوجود اس میدان میں آپ
نے جو کام کیا ہے وہ درج ذیل ہے:
(1)
ضیاے اربعین،
مطبوعہ ۔ حفظ حدیث سے دلچسپی رکھنے والے
مبتدی طلبہ کے لیے ایک بہترین کتاب ہے ۔
انڈمان کے اکثر و بیشتر مکاتب میں اساتذہ اس کی مدد سے بچوں کو احادیث یاد کرواتے
ہیں۔
(2)
احقاق حق و ابطال باطل،
مطبوعہ۔ امین شریعت نیپال مفتی محمد
اسرائیل رضوی مصباحی المعروف بہ فخر نیپال صاحب قبلہ کے چند مضامین کا مجموعہ جو آپ کی تحقیق و
تخریج اور جمع وترتیب کے بعد منظر عام پر آئی جس میں نیپال کے اہل علم دانشور اور
مسلم سیاسی رہنما کے ذریعہ اسلامی احکام اور عقائد اہل سنت پر اٹھائے گیے شکوک و
شبہات کا مدلل اور شافی جواب دیا گیا ہے۔
(3)
ہندی
ترجمہ ، استعانت اسلام اور سائنس کی نظر میں، مطبوعہ۔یہ مولانا جاوید احمد عنبر مصباحی کا اردو رسالہ ہے جسے انڈمان کے بد عقیدوں سے متاثر
افراد کے لیے ہندی زبان میں پیش کیا گیا ہے۔
(4)
رضوی
پریوار کا پریچے، ہندی، غیر مطبوعہ۔بالخصوص انڈمان
کے لوگوں کے لیے لکھی گئی یہ کتا ب ان شاء
اللہ عرس صد سالہ کے موقع سے منظر عام پر ہوگی۔
(5)
اسلام کا پریچے ہندی ، غیر مطبوعہ
۔ نو مسلموں کو اسلام سیکھانے کے لیے لکھی گئی یہ ایک ایسی ضخیم کتاب ہے جس میں اسلام کی ساری بنیادی باتیں
آسان اور اخباری زبان میں اکٹھا کی گئی ہے۔ تھوڑا بہت کام باقی ہے ان شاء اللہ جلد
منظر عام پر ہوگی۔
(6)
حیات فخر نیپال ، زیر ترتیب
۔ملک نیپال میں مسلک اعلی حضرت کی ترویج و اشاعت اور مختلف میدان میں نمایاں
دینی و ملی خدمات انجام دینی والی عبقری علمی
شخصیت امین شریعت نیپال مفتی محمد
اسرائیل رضوی مصباحی المعروف بہ فخر نیپال دامت برکاتہم العالیہ کی حیات و خدمات پر مستند دستاویز۔ چند ابواب کا
کام باقی ہے ان شاء اللہ جلد اس کی تکمیل
کی جائے گی۔
مذکورہ کتابوں کے علاوہ
تذکرہ علماے نیپال، مفید الخطبا، تاریخ مدارس اسلامیہ نیپال وغیرہ کئی کتابیں زیر ترتیب ہیں ، امید
ہے موصوف انھیں بھی جلد منظر عام پر لانے کی کوشش کریں گے۔
صحافت: آپ
قیام جامعہ امجدیہ کے دوران سہارا اردو
اخبار کے لیے اکثر و بیشتر مضامین و
مراسلات لکھتے تھے اور جامعہ امجدیہ کے جداریہ "پندرہ روزہ ادبی میزان "کے
نائب مدیر اور جامعہ اشرفیہ میں "ہفت روزہ ہلال" جداریہ کے آپ مدیر رہ چکے ہیں۔ فی الحال ملک نیپال میں
سواد اعظم مسلک اعلی حضرت کا بے باک ترجمان "سہ ماہی سنی پیغام" کے نائب
مدیر ہیں اور انڈمان میں" آل انڈیا رڈیو "سے رمضان، قربانی، محرم ، عرس
رضوی،عید میلاد النبی ،عرس غریب نواز اور
گیارہویں جیسے مواقع سے آپ کے بیانات نشر ہوتے ہیں۔
فروغ رضویات میں آپ کا
کردار: رضویات کی
ترویج و اشاعت اور فروغ میں آپ نے جن ذرائع سے حصہ لیا ہے وہ درج ذیل ہے:
فروغ رضویات بذریعہ تقریر و
خطابت: یوں تو آپ کی اکثر
و بیشتر تقریر کا محور سرکار رضا کی ذات ستودہ صفات ہوا کرتی ہے لیکن جب سےانڈمان نیکوبار گیے آپ کی یہی کوشش رہتی ہے
کہ کسی نہ کسی زاویہ سے سرکار اعلی حضرت کا تذکرہ ضرور کروں جس کے پیچھے ایک اہم
وجہ کار فرماہے جو یہ ہے:
در
اصل کالا پانی کی سزا کے لیے مشہور انگریزوں کی دریافت نو آباد خطہ اَنڈَمان نیکوبارپانچ سو سے زائد جزائر پر مشتمل
ہندوستان کی خشکی سے تقریبا بارہ سو کیلو میٹر دور واقع ایک ایسا صوبہ ہے جہاں
زیادہ تر قیدیوں کی اولادیں آباد ہیں۔پانچ لاکھ کی کل آبادی میں مسلمانوں کا تناسب
تقریبا ایک لاکھ کی آبادی کے ساتھ ۲۰ فیصد ہے اورسلطان العلما شیخ ابو بکر احمد مسلیار کے معتقدین کی کوششوں سے یہاں زیادہ
تر اہل سنت و جماعت سے منسلک مسلمان ہیں لیکن سرکار اعلی حضرت کی ذات با برکات سے
بہت زیادہ متعارف نہیں ہیں جس کی اہم وجہ کسی بھی سنی حنفی عالم کی عدم موجودگی
تھی مگر اب الحمد للہ مرکز الثقافۃ السنیہ کے زیر سرپرستی مولانا ثمر مصباحی اور ان کے احباب کی انتھک
کوششوں سے لوگ دھیرے دھیرے سرکار اعلی حضرت کی ذات سے متعارف ہو رہے ہیں۔اسی لیے
آپ اپنی تقریر و خطابت میں زیادہ سے زیادہ سرکار اعلی حضرت کی ذات بابرکات، اوصاف
و کمالات اور خدمات پر روشنی ڈالنے اور چھوٹی بڑی محفلوں میں موضع سخن بنانے کی
کوشش کرتے ہیں۔
فروغ رضویات بذریعہ عرس
رضوی: سال ۲۰۱۵ء سے پہلے انڈمان کی تاریخ میں کبھی بھی عرس رضوی یا سرکار رضا کے نام
سے کسی بھی پروگرام کا انعقاد نہیں ہوا لیکن آپ اور آپ کے چند احباب کی کوششوں سے
۲۰۱۵ء میں عرس رضوی کے موقع سے مرکز فضل حق اکیڈمی انڈمان کے زیر اہتمام آپ ہی کی
صدارت میں مختلف جگہوں پر عرس اعلی حضرت کا انعقاد ہوا اور مجاہد تحریک آزادی علامہ فضل حق خیرآبادی کی
آخری آرام گاہ تک اعلی حضرت کے نام سے ریلی نکالی گئی۔تب سے لے کر آج تک لوگ عرس
رضوی اور ولادت رضا کے موقع سے کچھ نہ کچھ
پروگرام ضرور منعقد کرتے ہیں۔
فروغ رضویات بذریعہ تقسیم کنز الایمان: پہلے آپ نے یہاں کے لوگوں کو بدعقیدوں
کے ترجمہ قرآن پڑھنے کے نقصانات اور سرکار اعلی حضرت کے ترجمہ قرآن کنز الایمان کی
خوبیاں بیان فرمائی اور پھر کنز الایمان ہندی اور اردو تقسیم کروائی ۔ اب تک
درجنوں کنز الایمان ہندی ، اردو یہاں کی مسجدوں اور لوگوں کے گھروں تک پہونچ چکا
ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔
فروغ رضویات بذریعہ رد و
مباحثہ: عرس رضوی منعقد
کرنے کے بعد آپ کھل کر (open Stage)سرکار اعلی حضرت کا ذکر کرنے لگے اور
محافل میں قیام اور سلام رضا " مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام" پڑھنے
لگے تو یہاں کے کچھ بد عقیدہ مولویوں کو ناگوار گزرنے لگا کہ ہماری پچاس سالہ محنت
برباد ہونے والی ہے اس لیے وہ آپ کو تنگ کرنے لگے لیکن سلطان العلما شیخ ابو بکراحمد
دامت برکاتہم العالیہ کے معتقدین نے آپ کا
قدم بقدم ساتھ نبھایا اور وہ لوگ خاموش ہوئے۔ اس بیچ ان مولویوں اور ان کے ہمنواوں
سے بالمشافہ یا بذریعہ ٹیلوفون کئی مباحثے ہوئے جن میں آپ نے سرکار حافظ ملت اور
سرکار اعلی حضرت کے فیضان کرم سے دنداں شکن جواب دے کر احقاق حق اور ابطال باطل
کیا۔آج تک یہ رد و ابطال کا سلسلہ جاری ہے
اور ہمہ وقت آپ کو ان سے بحث و مباحثہ یا مذبذب قسم کے لوگوں کی افہام و تفہیم کے
لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔
فروغ رضویات بذریعہ تحریر و
قلم : قیام جامعہ
صوت الرضا پرڑیا ضلع مہوتری کے دوران ۲۰۱۲ء میں آپ نے ایک ہفت روزہ جداریہ بنام "صوت الرضا ہندی اردو "
کا اجرا کیا تھا جو مزارات اولیا روضہ شریف ضلع مہوتری پر لگایا جاتا تھا جس کی تمام تر ذمہ داریاں آپ کے سرتھی ۔ اس میں
مزارات سے متعلق سرکار اعلی حضرت علیہ الرحمہ کے ارشادات و فرمودات اور فتاوی جات
کو شائع کیا جاتا تھا لیکن کسی وجہ سے چند ماہ سے زیادہ یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔
۲۰۱۶
ء میں انڈمان میں عرس رضوی کے موقع سے ایک پمفلٹ بنام "کون اعلی حضرت
؟"ہندی اردو زبان میں مفت تقسیم
کروایا تھا جس میں سرکار اعلی حضرت کی
حیات و خدمات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔
فی
الحال عرس صد سالہ کے حسین موقع سے انڈمان میں فروغ رضویات کے سلسلہ کی ایک اور
کڑی آپ کی کتاب" رضوی پریوار کا پریچے" ہندی میں منظر عام پر آنے والی
ہے اور ساتھ ہی نیپال سے نکلنے والا سہ ماہی سنی پیغام کا ایک ضخیم تاریخی نمبر " فروغ رضویات میں علماے نیپال کا
کردار " حضرت مولانا عطاء النبی حسینی مصباحی کی ادارت اور آپ کی نیابت میں
شائع ہونے جا رہا ہے اور ان شاء اللہ جلد آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔
Social Plugin